Skip to main content

Raja's Biography

 

 سوانح حیات


* کسی شخص کی زندگی کے بارے میں تحریری طور پر جو نوٹ لکھا جاتا ہے اسے سوانح حیات کہا جاتا ہے۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




*اسم گرامی (نام)*


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


نام راجہ بیرو خان ہے۔ یہ نام اُس شخص کا جس کی سوانح حیات لکھی جاری ہے۔ ”بیرو“ تُرکی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ”بہادر“ یا سپہ سلار“ کا ہے۔ لفظ ”خان“ قومی و نسبتی خانیت والی صفت اور راجپوتانہ لقب اور شاہانہ خطاب بھی ہے۔  تاریخی اعتبار سے ”خان“ یا” راجہ“ جنجوعہ قوم کے سرداروں اور حکمرانوں کا خطاب ہے۔ قومِ جنجوعہ کی ایک منفردانہ اور بے بکانہ پہچان بھی ہے۔








*راجہ بیرو خان*


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


راجہ بیرو خان کی پیدائش گاؤں لور کالابن، پنچایت تکیہ کالابن محلہ مواڑہ میں ہوئی ۔ آپ کے والد محترم مرحوم کا نام فیروز دین جنجوعہ  تھا۔ 


نوٹ :۔ راجہ بیرو خان جنجوعہ قوم کے چند نامی گرامی راجاؤں میں شمار کیے جاتے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

علاقے میں بیرو خان” راجہ“ کے خطابی نام سے پُکارے جاتے تھے۔ میں اپنی تحریر میں راجہ بیرو خان بہشتی کی تمام سوانح زمانہء حال ہی میں تحریر کرنا چاہتا تھا مگر اُپر ایک جملہ کا خاتمہ ماضی کی طرف اشارہ کر گیا یعنی ”تھے“۔ مطلب یہ کے راجہ بیرو خان اِس دنیائے فانی سے دُنیائے بقاء میں یعنی عالمِ ”برزخ“ میں منتقل ہو چکے ہیں اور اپنی دائمی آرام گاہ میں آرام فرما ہیں۔


*لالہ بیرو مرحوم*


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


یہ خدا کے نیک بندے، نبیؐ کریم کے سچے اور پکے عاشق،اپنے ہم عصران ”میں لالہ“ کے نام سے مشہور تھے۔ میں نے جب بھی مرحوم راجہ بیروخان کے ہم عصران کو راجہ صاحب بہشتی کا نام پُکارتے ہوۓ سنا ہے تو اُن کی زبان سے ”لالہ بیرو“ ہی سنا ہے۔




*راجہ بیرو خان کی طبعیت*


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


راجہ صاحب مرحوم خدا وند قدّوس اُن کی مغفرت کرے، طبعیت کے قدرے سخت تھے۔ مگر ہر کسی کو اپنے مزایہ انداز کی وجہ سے محسوس نہیں ہونے دیتے تھے۔



*راجہ بیرو خان اعلیٰ نقاد تھے*


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


مرحوم راجہ بیرو خان نیک بخت ،انسان کا چہرہ بے حد احسن انداز میں پڑھ لیا کرتے تھے۔ مرحوم اُس شخص میں موجود اچھائیاں اور بُرایاں فوراً ہی پا لیتے تھے۔ اُس شخص کی اچھائیوں پر اُس کو داد دیتے تھے جبکہ بُرائیوں کی نشاندہی کر تے ہوۓ اُس کو اُن برائیوں کو جلد ختم کرنے اور خود کو سدھارنے کا نہایت ہی نیک مشورہ عنایت کیا کرتے تھے۔



*راجہ بیرو خان کے اَخلاق*


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


راجہ بیروخان مرحوم للہ تعالیٰ اُن کو اپنی رحمت کی چھت کے سایے میں رکھے، اخلاقی شخص تھے۔ بلکہ جو میرا خود کا مشاہدہ ہے وہ بہترین اخلاق کے مالک اور اعلیٰ کردار کے راجہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ عوام الناس میں” راجہ“ کے شاہی لقب سے مشہور و معروف تھے۔



*مرحوم حاضر جواب تھے*


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


حاضر جوابی کی صفت بھی ایک کمال کا ہنر ہوتا ہے۔یہ ہنر اور کمال جس کسی میں بھی پایا جاتا ہے،اُسے باقی افراد سے ممتاز بنا دیتا ہے۔ میں اپنے ذاتی مشاہدے کو سامنے رکھتے ہوۓ برملا یہ کہتا ہوں” راجہ بیرو خان کو اللہ بَصدقہء رسولؐ جنّت میں اعلیٰ مقام نصیب کرے، مرحوم حاضر جواب تھے اور بڑے تند قِسم کے حاضر جواب تھے۔ مرحوم فوراً ہی محفل کو اپنی ذہانت کے کمال سے محضوظ کر لیتے تھے۔“ 



*راجہ صاحب لطیف شخصیت کے مالک تھے*


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


راجہ بیرو خان بہت ہی باکمال،بہَ روب اور ہنس مُکھ قِسم کے انسان تھے۔ لطافت و شرافت مرحوم مغفور کے کردار کی اہم ترین شناخت تھی۔ بات خوب واضح کیا کرتے تھے۔ مگر ایک عام مجھ جیسا سوانح نگار مرحوم کے لحجہ کو جلدی نہیں پڑھ سکتا تھا مگر مرحوم اپنی بات کو دہرا کر ایسے نشر کیا کرتے تھے کہ اچھی طرح واضح ہو جاتی اور ساتھ ہی ساتھ قابلِ فہم بھی ہو جاتی تھی۔




*مرحوم کچہری بُردار شخصیت تھے*


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


راجہ بیرو خان سماجی،سیاسی اور مذہبی اعتبار سے بے حد معتدل رجحان کے حامل شخصیت والا کردار رکھتے تھے۔ مرحوم کو ہر چھوٹی بڑی پنچایت یا کچہری میں مدعو کیا جاتا تھا اور مرحوم شوق سے پنچایت یا کچہری میں تشریف لے جایا کرتے تھے۔ متعدد بار ایسا بھی ہوتا رہا ہے کہ مرحوم بیروخان کو ہمارے گاؤں کالابن کے لمبردار جناب سردار یعقوب خان بہشتی مرحوم پوری پوری کچہری یا پنچایت کا فیصلہ سونپ دیتے تھے تو راجہ بیرو خان بے حد غیرجانب داری سے کام لیتے ہوئے اپنا فیصلہ سنا دیتے تھے۔ اِسی طرح  کہیں مرتبہ چوکیدار مرحوم ، افضل خان بھی راجہ بیرو خان مرحوم کو کچہری کا فیصلہ سُنانے کے لیے دونو فریقن کی جانب سے متفقہ طور پر منصف بنا دیا کرتے تھے اور یو مرحوم راجہ صاحب بے حد صاف فیصلہ سنا دیا کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ کیا مجال کے راجہ صاحب مرحوم کی جانب سے صادر کیا گیا فیصلہ فریقین کو نا منظور ہوا ہو یا کبھی نا پسند ۔



*خوش مزاجی اور ذوقِ سلیم*


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


راجہ بیرو خان مرحوم مزاجاً ہوش تھے مگر سامنے والے کو محسوس نہیں ہونے دیتے تھے۔ مرحوم بڑا پُر متانت مزاق کیا کرتے تھے کہ سامنے والا ہنس ہنس کر دہرا یعنی لُٹ پُٹ ہو جاتا تھا۔ 



۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



*راجہ بیرو خان پر فالج کا حملہ*


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


راجہ بیرو خان مرحوم دن بھر اپنے گھر کے قریب ایک دیوار بنانے کے کام میں مشغول رہے، پھر دن کا اجالا ختم ہوا اور شام کی کالی چادر گہری ہونے لگی کہ اچانک مرحوم موصوف پر فا لج کا حملہ ہو گیا۔ جب مرحوم موصوف پر فالج کا حملہ ہوا تو تاریخ 2 اپریل تھی اور سال 2018 تھا۔ 



*راجہ مرحوم کی وفات*


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


راجہ مرحوم کی وفات بھی اچانک ہی ہو گئی تھی۔ ٹھیک ٹھاک رہے، ایک لائن مین سے باتیں کیں، گھروالوں سے باتیں کیں۔ اپنے بستر پر آرام کی خاطر لیٹے،آنکھ لگ گئی ، اسی حالت میں جسمِ خاکی سے روح پرواز کر گئی اور مرحوم 2 اپریل 2022 بمطابق ۳۰ شبان المکرم  کو محض ایک روز قبل ماہ رمضان شریف کے، اپنی جان جانِ آفرین کے حوالے کر گئے اور تمام اہلِ خانہ اور برادری کو داغِ مفارقت دے گئے۔ ایک بات میں اور بتانا چاہتا ہوں کہ مرحوم کی نماز جنازہ میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی تھی۔ صف کے بعد صف اور اسی طرح کہیں ایک صفیں بندھیں تھیں۔  راجہ صاحب کی نمازِ جنازہ موجودہ دور کے ولیِ بہَ شرع ،  حضرت سید الحاج عبدلخالق حسین شاہ رحمت اللہ علیہ مدظلہ برکاۃ نے ادا کر وائی تھی۔


مرحوم کی وفات ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

راجہ صاحب کی وفات سے قوم ایک ایسا خلاء محسوس کر رہی ہے کہ جس کی بھرپائی ہونا یا وہ خالی خانہ پُر ہونا بڑا ہی مشکل بلکہ نا ممکن سا لگتا ہے۔ حالانکہ اُن کے بڑے صاحب زادے، نزاکت حسین پر قوم و برادری کو کافی توقعات ہیں اور امیدیں بھی ہیں۔ حالانکہ راجہ مرحوم کے سیاسی،سماجی، اور خانگی قد تک نزاکت حسین شاید نہ پہنچ سکیں مگر کچھ مرحوم کی باتوں پر عمل کرتے ہوئے ان کے قوم سے بچھڑنے کا احساس کم ضرور کروا سکتے ہیں ، خدا انھیں سلامت بالایمان رکھے۔اَمین! 


 نزاکت حسین کے علاوہ شکیل احمد، صداقت خان اور دو بیٹیا  سوگوارن میں چھوڑی ہیں۔ جب کہ مرحوم کی زوجہ محترمہ کا نام زرینہ بیگم ہے۔ یہ بھی بڑی نیک ہیں۔ اللہ انھیں سلامت رکھے۔ اِمین! 


** ** ** ** **




*سوانح نگار:* 


قاری رمیز راجہ سیستانی


مقام: کالابن،موڑہ


تحصیل: مینڈھر


ضلع : پُونچھ


جموں و  کشمیر

Comments

Popular posts from this blog

Raja's Biography

Raja's Live Photo  *سوانح حیات* ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ * کسی شخص کی زندگی کے بارے میں تحریری طور پر جو نوٹ لکھا جاتا ہے اسے سوانح حیات کہا جاتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ *اسم گرامی (نام)* ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نام راجہ بیرو خان ہے۔ یہ نام اُس شخص کا جس کی سوانح حیات لکھی جاری ہے۔ ”بیرو“ تُرکی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ”بہادر“ یا سپہ سلار“ کا ہے۔ لفظ ”خان“ قومی و نسبتی خانیت والی صفت اور راجپوتانہ لقب اور شاہانہ خطاب بھی ہے۔  *راجہ بیرو خان* ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ راجہ بیرو خان کی پیدائش گاؤں کالابن محلہ مواڑہ میں ہوئی ۔ آپ کے والد محترم مرحوم کا نام فیروز الدین جنجوعہ تھا۔  علاقے میں بیرو خان” راجہ“ کے خطابی نام سے پُکارے جاتے تھے۔ میں اپنی تحریر میں راجہ بیرو خان بہشتی کی تمام سوانح زمانہء حال ہی میں تحریر کرنا چاہتا تھا مگر اُپر ایک جملہ کا خاتمہ ماضی کی طرف اشارہ کر گیا یعنی ”تھے“۔ مطلب یہ کے راجہ بیرو خان اِس دنیائے فانی سے دُنیائے بقاء میں یعنی عالمِ ”برزخ“ میں منتقل ہو چکے ہیں اور اپنی دائمی آرام گاہ میں آرام فرما ہیں۔ *لالہ بیرو مرحوم* ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ خدا کے نیک بندے، نبیؐ کریم کے سچے ...

Mohd Shafiq Khan's Biography

Singer Mohd Shafiq Khan The Nightingale Of Poonch  The poet and singer Mr. Sardar Mohd Shafiq Kahan son of Jenab Sardar Bohstan Ali Khan Marhoom, is to be said the "Nightingale Of Poonch" Singer's Parents  Sardar Mohd Shafiq Khan's parents were rich in all aspects. His Abbu Jenab Sardar Bohstan Khan was a humble man and always was stood for the help of needy In as well as outside of his area. His mother name was Mohtrma Sarwar Jahan. She  was so gentle and beloved of Allah,Messenger, Companions and Auwliyas. She had visited to the Shrine of Ajmair Shareef. When she left this unreal world the thousands of people had offered her Funeral or Namaz e Janaza. No doubt, she is a heavenly Mahi Sahibah Insha Allah! She had loved the writer, Qari Rameez Raja Sustani so much. She had a wish herself to look him become a Molvi.  Villagers used to call her as , Bahre Bay respectively. Allah may awarded her a special one place in  the Jannah.  Ameen Summa Ameen ...